سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
سورہ کی معلومات

سورة يونس

آیات:

109

نزول وحی کی جگہ:

مکہ

Adapted from Tafsir Ibn Ashur

موضوعات اور مقصد:

یہ عظیم مکی سورت قرآن کے منکرین کے لیے ایک مضبوط چیلنج پیش کرتی ہے۔ اس میں قرآن کے اعجاز (اس جیسی کوئی سورت نہ لا سکنے کے چیلنج) کے ذریعے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو ثابت کیا گیا ہے۔ سورت میں توحید اور آخرت کے بنیادی عقائد کو مضبوط دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت نوحؑ اور حضرت موسیٰؑ کے واقعات کے ذریعے منکرین کو تنبیہ کی گئی ہے، جبکہ حضرت یونسؑ کی قوم کی منفرد مثال پیش کر کے یہ واضح کیا گیا ہے کہ سچا ایمان اور بروقت توبہ اللہ کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں۔

نزول کا پس منظر:

دور: حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور جمہور مفسرین کے نزدیک یہ مکی سورت ہے۔ البتہ بعض علماء کی رائے ہے کہ یہ سورت مدنی ہے یا اس کی بعض آیات مدینہ میں نازل ہوئیں۔علامہ ابن عاشورؒ کے مطابق یہ رائے ایک غلط مفروضے پر مبنی ہے کہ اہلِ کتاب سے مناظرہ یا گفتگو پر مشتمل ہر آیت لازماً مدنی ہوتی ہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ جن آیات کو مدنی قرار دیا گیا ہے، ان کا اصل مخاطب قریش ہیں، نہ کہ اہلِ کتاب؛ اس لیے ان آیات کو مدنی قرار دینا درست نہیں۔

زمانہ: نزول کی ترتیب میں اسے 51 ویں سورت شمار کیا گیا ہے، جو سورۃ الاسراء کے بعد اور ہود سے پہلے نازل ہوئی۔ یہ غالباً نبوت کے گیارہویں سال (آخری مکی دور) کے آس پاس نازل ہوئی۔

سیاق و سباق: آیت 21 میں غالب امکان ہے کہ قریش پر آنے والے سات سالہ قحط کی طرف اشارہ ہے، اور اس بات کا ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مصیبت سے نجات دی تو وہ دوبارہ اپنی سازشوں اور انکار پر لوٹ آئے۔ اس وقت تک رسول اللہ ﷺ کئی برسوں سے اہلِ مکہ کو دعوتِ اسلام دے رہے تھے، مگر ان کی ہٹ دھرمی اور ضد مزید بڑھ چکی تھی۔ اسی پس منظر میں حضرت نوحؑ اور حضرت موسیٰؑ کے طویل واقعات قریش کے لیے تنبیہ اور رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی کا ذریعہ بنتے ہیں، جبکہ حضرت یونسؑ کی قوم کا منفرد واقعہ یہ امید دلاتا ہے کہ تباہی کے دہانے پر پہنچنے والی کوئی قوم بھی اگر اجتماعی طور پر سچی توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب سے بچا سکتا ہے۔ یہی واقعہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اہلِ مکہ کو بالآخر فتحِ مکہ کے موقع پر معاف کر دیا جائے گا۔

نام اور آیات کی تعداد:

نام: سورۂ یونس۔ اس سورت کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ قرآن مجید میں حضرت یونسؑ کی قوم کا منفرد واقعہ اسی سورت میں بیان ہوا ہے۔ یہ وہ قوم تھی جس نے اپنے رسول کی طرف سے عذاب کی تنبیہ کے بعد ایمان قبول کر لیا، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب سے بچا لیا (آیت 98)۔ اس نام کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس سورت کو ان دیگر سورتوں سے ممتاز کیا جائے جو "الر" (الف، لام، را) سے شروع ہوتی ہیں۔

آیات کی تعداد: 109 (اکثریت) یا 110 (شام کی روایت)۔

سورہ کا خلاصہ:

  • قرآن کا چیلنج: قرآن کے ناقابلِ تقلید ہونے (جس کی علامت ا لرہے) اور "تو لے آؤ ایک ہی سورت اس جیسی" کے واضح چیلنج کے ذریعے محمد ﷺ کی نبوت کو ثابت کرنا۔ [1، 38]
  • انکار کی تردید: مشرکین کے اس تعجب کو رد کرنا کہ اُنہی میں سے ایک انسان اللہ کا رسول کیسے ہو سکتا ہے۔ [2]
  • توحیدِ الٰہی کو ثابت کرنا: توحیدِ الٰہی کو ثابت کرنا: اللہ تعالیٰ کی تخلیقِ کائنات اور نظامِ عالم پر اُس کے کامل اختیار کے ذریعے اُس کے اکیلے معبودِ برحق ہونے کو واضح کرنا۔ [3-6، 31-32]
  • آخرت کا اثبات: قیامت کی حقیقت اور الٰہی فیصلے کی تصدیق کرنا۔ [4، 34]
  • تسلی: یہ واضح کرنا کہ اللہ کی طرف سے عذاب میں تاخیر حکمت کی نشانی ہے، کمزوری کی نہیں۔ [11]
  • شرک کی تردید: بتوں کے سفارشی ہونے کے تصور کو باطل ثابت کرنا۔ [18]
  • تخلیق میں نشانیاں: کشتیوں کے چلنے اور دنیاوی زندگی کی حقیقت پر تدبر کرنا، اور اس دنیا کی فانی دلکشی کا تقابل سلامتی کے گھر کی دائمی اور لازوال بقا سے کرنا۔ [22-25]
  • روزِ قیامت مختلف انجام: نیکی کرنے والوں کے اجر اور برائی کرنے والوں کی ذلت کا واضح موازنہ، اور جھوٹے خداؤں کا اپنے پجاریوں سے لاتعلقی کا اظہار کرنا۔ [26-30]
  • من گھڑت پابندیاں: رزق کے معاملے میں جھوٹی پابندیوں پر سرزنش کرنا۔ [59]
  • اللہ کا ہمہ گیر علم: اس بات پر زور دینا کہ آسمانوں یا زمین میں کوئی بھی عمل، راز یا ذرہ اس کے علم سے باہر نہیں ہے، جو جوابدہی اور جزا و سزا کے یقین کو تقویت دیتا ہے۔ [61]
  • خوشخبری: "اللہ کے ولیوں" کو یہ خوشخبری دینا کہ انہیں کوئی خوف نہیں ہوگا۔ [62-64]
  • تاریخی انتباہ: گزشتہ قوموں (نوح، موسیٰ وغیرہ) کے قصوں کو بطورِ عبرت استعمال کرنا۔ [71-93]
  • اہل کتاب بطور گواہ: سابقہ کتب کے ماننے والے اس وحی کی سچائی کو پہچانتے ہیں اور اس کی گواہی دے سکتے ہیں، جو نبی ﷺ کے پیغام کی بیرونی ماخذ سے ایک تصدیق ہے۔ [94]
  • یونس علیہ السلام کی قوم کا استثناء: حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا وہ خاص واقعہ بیان کرنا جس میں انہوں نے عذاب کے نازل ہونے سے پہلے سچی توبہ کی جس کے نتیجے میں ان سے عذاب ہٹا دیا گیا جو ان اقوام کے عام انجام کے برعکس ایک امید افزا مثال ہے جو انکار پر قائم رہیں۔ [98]
  • ہدایت، الٰہی مشیت اور انسانی اختیار: یہ وضاحت کرنا کہ ہدایت بالآخر اللہ کی مشیت کے تحت ہے، تاہم ہر فرد اس دعوت کو قبول کرنے یا اس سے منہ موڑنے میں خود ذمہ دار ہے، اور اسی انتخاب کے ذریعے وہ اپنا انجام طے کرتا ہے۔ [99-100، 108]
  • اختتام: نبی ﷺ کو تسلی دینا اور یہ حکم دینا کہ وہ واضح کر دیں کہ ہدایت ایک ذاتی انتخاب ہے، اور اللہ ہی حتمی فیصلہ کرنے والا ہے۔ [108-109]

قرآن سے جڑے رہیں ❤️

قرآن سے ربط تازہ کرنے، غور کرنے اور اس سے جڑے رہنے کے لیے مختصر معنی خیز یاددہانی۔

قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس
قرآن سے دعائیں
دن کی قرآنی آیت
آیت الکرسی
سورہ یسین
سورہ الملک
سورہ الرحمان
سورہ الواقعة
سورہ الكهف
سورہ المزمل
سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں
تعاون کریں۔