وَسِیْقَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْۤا
اِلٰی
جَهَنَّمَ
زُمَرًا ؕ
حَتّٰۤی
اِذَا
جَآءُوْهَا
فُتِحَتْ
اَبْوَابُهَا
وَقَالَ
لَهُمْ
خَزَنَتُهَاۤ
اَلَمْ
یَاْتِكُمْ
رُسُلٌ
مِّنْكُمْ
یَتْلُوْنَ
عَلَیْكُمْ
اٰیٰتِ
رَبِّكُمْ
وَیُنْذِرُوْنَكُمْ
لِقَآءَ
یَوْمِكُمْ
هٰذَا ؕ
قَالُوْا
بَلٰی
وَلٰكِنْ
حَقَّتْ
كَلِمَةُ
الْعَذَابِ
عَلَی
الْكٰفِرِیْنَ
۟
اور ہانک کرلے جائے جائیں گے کافر جہنم کی طرف گروہ در گروہ یہاں تک کہ جب وہ پہنچ جائیں گے جہنم پر تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول ؑ نہیں آئے تھے جو تمہیں سناتے تھے تمہارے رب کی آیات اور تمہیں خبردار کرتے تھے تمہاری آج کے دن کی اس ملاقات سے وہ کہیں گے کیوں نہیں ! لیکن کافروں پر عذاب کا حکم ثابت ہو کررہا کہہ دیا جائے گا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفار کی آخری منزل ٭٭…
بدنصیب منکرین حق، کفار کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ جانوروں کی طرح رسوائی، ذلت ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکی سے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے “۔ جیسے اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا» [52-الطور:13] میں «يُدَعُّونَ» کا لفظ ہے یعنی ” دھکے دیئے جائیں گے“ اور سخ
کفار کی آخری منزل ٭٭…
بدنصیب منکرین حق، کفار کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ جانوروں کی طرح رسوائی، ذلت ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکی سے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گ