آیات:
49
نزول وحی کی جگہ:
مکہ
Adapted from Tafsir Ibn Ashur
یہ مکی سورت قیامت کے یقینی وقوع اور قرآن کی حقانیت کو ثابت کرتی ہے۔ اس کا آغاز کوہِ طور اور دیگر مقدس نشانیوں کی قسموں سے ہوتا ہے، پھر مشرکین کے لیے قیامت کے ہولناک انجام اور اہلِ جنت کی نعمتوں کا تقابل پیش کرتی ہے، اور تخلیقِ کائنات اور انسان کے وجود سے متعلق بنیادی سوالات اٹھا کر منکرین کے باطل عقائد کی تردید کرتی ہے۔
دور: متفقہ طور پر مکی ہے۔
سیاق و سباق: یہ سورت مکی دور میں اس وقت نازل ہوئی جب مشرکینِ مکہ کی مخالفت شدت کو پہنچ چکی تھی۔
ترتیبِ نزول: نزول کی ترتیب میں اسے 75 ویں سورہ شمار کیا گیا ہے، جو سورۃ نوح کے بعد اور المؤمنون سے پہلے نازل ہوئی۔
نام: اس سورت کا نام "سورۃ الطور" آغاز میں کوہِ طور کی قسم کھانے کی وجہ سے رکھا گیا ہے، جہاں حضرت موسیٰؑ پر وحی نازل ہوئی تھی۔ یہ قسم قرآن کے الٰہی ماخذ اور اس کے برحق ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔
فضیلت: نبی کریم (ﷺ) کے بارے میں جانا جاتا تھا کہ وہ مغرب (غروبِ آفتاب) کی نماز میں اس سورہ کی تلاوت فرماتے تھے۔
آیات کی تعداد: 47 آیات (مدینہ/مکہ کے مطابق) یا 49 (شام/کوفہ کے مطابق)۔