آیات:
29
نزول وحی کی جگہ:
مکہ
Adapted from Tafsir Ibn Ashur
یہ مکی سورہ قیامت (دوبارہ زندہ ہونے) اور الٰہی بدلے (جزاء و سزا) کی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے وقف ہے۔ یہ اس قیامت کی گھڑی سے پہلے کائنات کے تباہ کن بکھرنے (مٹ جانے) کی تفصیل بیان کر کے اس حقیقت کو حاصل کرتی ہے۔ یہ سورت نبی کریم ﷺ کی صداقت اور قرآن کے منزلِ من اللہ ہونے کی تصدیق کرتی ہے، اور مشرکین کے اس الزام کا ردّ کرتی ہے کہ آپ ﷺ (معاذ اللہ) دیوانگی میں مبتلا ہیں یا کسی شیطانی اثر کے زیرِ اثر ہیں۔
دور: بالاتفاق مکی ہے۔
سیاق و سباق: یہ سورت نبوت کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تاکہ متکبر مشرکین کو قیامت کے انکار پر متنبہ کیا جائے، اور نبی ﷺ کو ان کے اس الزام پر تسلی دی جائے کہ وہ آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے یا قرآن کو شیطان کا کلام قرار دیتے تھے۔
ترتیبِ نزول: نزول کی ترتیب میں اسے ساتویں سورہ شمار کیا گیا ہے، جو سورۃ الفاتحہ کے بعد اور الاعلیٰ سے پہلے نازل ہوئی۔
نام: یہ سورہ تین یکساں ناموں سے جانی جاتی ہے: "سورۃ التکویر"، "سورۃ کورت"، اور "سورۃ إذا الشمس کورت" [1]۔
فضیلت: نبی کریم (ﷺ) نے ہر اس شخص کے لیے اس سورہ کو پڑھنے کی تاکید فرمائی جو قیامت کے دن کا ایسے تصور (منظر) دیکھنا چاہتا ہو جیسے وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔
آیات کی تعداد: متفقہ طور پر 29 آیات۔