آیات:
62
نزول وحی کی جگہ:
مکہ
Adapted from Tafsir Ibn Ashur
یہ مکی سورت حضرت محمد ﷺ کی نبوت اور قرآن کے الٰہی ماخذ کو مشرکین کے اعتراضات کے مقابلے میں ثابت کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ اپنی خواہش سے نہیں بلکہ وحی کے مطابق کلام کرتے ہیں، بتوں کی بےحقیقتی اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینے کے عقیدے کی تردید کی گئی ہے، اور قیامت و جزا و سزا کے یقینی وقوع کی تاکید کی گئی ہے۔
دور: جمہور مفسرین کے اتفاق کے مطابق یہ مکی سورت ہے۔ اس کا اسلوب، زبان اور مضامین واضح طور پر بتاتے ہیں کہ یہ مکی دور کے ابتدائی مرحلے میں، جب مخالفت کا آغاز ہو چکا تھا، نازل ہوئی۔
سیاق و سباق:یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین نے یہ دعویٰ کیا کہ نبی کریم ﷺ نے قرآن خود گھڑ لیا ہے۔ اس کی تلاوت کے اختتام پر نبی کریم ﷺ نے پہلی مرتبہ علانیہ سجدۂ تلاوت کیا، اور آپؐ کے قریب موجود مشرکین بھی اس کے اثر سے مغلوب ہو کر آپؐ کے ساتھ سجدے میں گر پڑے۔
ترتیبِ نزول: نزول کی ترتیب میں اسے 23 ویں سورہ شمار کیا گیا ہے۔
نام: یہ سورہ اپنے ابتدائی الفاظ کی بنیاد پر "سورۃ النجم" اور "والنجم" کے نام سے جانی جاتی ہے۔
آیات کی تعداد: 61 آیات (اکثریت کے مطابق) یا 62 (کوفہ کے مطابق)۔