آیات:
88
نزول وحی کی جگہ:
مکہ
Adapted from Tafsir Ibn Ashur
یہ مکی سورت بنیادی طور پر حضرت موسیٰؑ کی زندگی کی تفصیلی کہانی ہے، جس میں ان کے بچپن اور فرعون کے خلاف ابتدائی جدوجہد کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد نبی کریم ﷺ اور مظلوم مسلمانوں کو تسلی دینا ہے، اور یہ واضح کرنا ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ متکبر لوگوں (جیسے فرعون اور قارون) کو ذلیل کیا جاتا ہے اور آخرکار کمزوروں کو غلبہ عطا کیا جاتا ہے [آیت 5]۔
دور: مکی ہے۔
سیاق و سباق: یہ سورت مسلمانوں کی آنے والی ہجرت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور فتح کا وعدہ دیتی ہے [5]۔ بعض نے کہا کہ آیت 85 اس وقت نازل ہوئی تھی جب نبی کریم ﷺ مدینہ کے راستے میں تھے، جس نے آپ ﷺ کے لیے اپنا وطن چھوڑنے پر ایک تسلی کا کام کیا۔
ترتیبِ نزول: نزول کی ترتیب میں اسے 49 ویں سورت شمار کیا گیا ہے، جو سورۃ النمل کے بعد اور سورۃ الاسراء سے پہلے نازل ہوئی۔
پچھلی سورتوں کے ساتھ تعلق: یہ تین مسلسل طواسین (وہ سورتیں جو طٰس سے شروع ہوتی ہیں) میں آخری سورت ہے، جو نزول کے لحاظ سے بھی اسی ترتیب میں نازل ہوئیں جس ترتیب سے انہیں موجودہ قرآن میں جمع کیا گیا ہے، اور یہ تینوں اس بات میں ایک جیسی ہیں کہ ان کا آغاز حضرت موسیٰؑ کے ذکر سے ہوتا ہے؛ غالب امکان ہے کہ اسی مماثلت کی وجہ سے انہیں ایک ساتھ رکھا گیا۔ یہ سورت سورۃ الشعراء [26:18-19] میں دیے گئے خلاصے کو تفصیل سے بیان کرتی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو فرعون کے گھر میں کیسے پرورش ملی اور فرعون کی ہلاکت کے اسباب کیا تھے۔ اس سورت میں سورہ النمل کی آیت 7 میں مذکور مختصر واقعے کو مزید تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جس میں حضرت موسیٰ کا اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سفر اور وحی کے آغاز کا بیان کرتی ہے۔ اس طرح یہ سورت حضرت موسیٰؑ کی ابتدائی نشوونما سے لے کر دعوت کے آغاز تک کا سب سے مکمل بیان پیش کرتی ہے، جبکہ بعد کے واقعات کو مختصر رکھا گیا ہے کیونکہ ان کی تفصیلی وضاحت دیگر سورتوں (خصوصاً سورۃ الاعراف اور سورۃ الشعراء) میں موجود ہے۔
نام: اس سورت کا معروف نام "سورہ القصص" ہے۔ یہ نام آیت 25 سے لیا گیا ہے، جہاں حضرت موسیٰ نے مصر سے ہجرت کے بعد اپنے سسر کو اپنا پورا واقعہ سنایا۔ چونکہ اسی سورت میں حضرت موسیٰ کے بیان کردہ اسی واقعے کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، اس لیے "قصص" کا موضوع پوری سورت میں نمایاں طور پر موجود ہے۔
آیات کی تعداد: بالاتفاق 88 آیات ہیں۔