آیات:
5
نزول وحی کی جگہ:
مکہ
Adapted from Tafsir Ibn Ashur
یہ سورہ قرآن کی عظمت کی توثیق کرنے کے لیے وقف ہے۔ اس کا مقصد شبِ قدر (قدر کی رات) کے مرتبے کو بلند کرنا ہے، یہ تصدیق کرتے ہوئے کہ اس ایک رات کے دوران وحی اور فرشتوں کا نزول عبادت کی پوری زندگی سے زیادہ بڑی نعمت ہے۔
دور: اس کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں مضبوط دلائل موجود ہیں، لیکن اکثریت کی رائے یہ ہے کہ یہ مکی ہے۔
سیاق و سباق: یہ سورہ مسلمانوں کو اس رات کی بے پناہ فضیلت سے باخبر کرنے کے لیے نازل ہوئی تھی جس میں قرآن نازل کیا گیا تھا، تاکہ انہیں عبادت کے ذریعے اسے تلاش کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔
ترتیبِ نزول: نزول کی ترتیب میں اسے 25 ویں سورہ شمار کیا گیا ہے، جو سورۃ عبس کے بعد اور الشمس سے پہلے نازل ہوئی۔
نام: یہ سورہ قرآن کے نزول سے متعلق اپنی پہلی آیت کی بنیاد پر "سورۃ القدر" اور "سورۃ لیلۃ القدر" دونوں ناموں سے جانی جاتی ہے۔
آیات کی تعداد: 5 آیات (مدینہ/بصرہ/کوفہ کے مطابق) یا 6 (مکہ/شام کے مطابق)۔