Adapted from Tafsir Ibn Ashur
موضوعات اور مقصد:
یہ مکی سورت اللہ تعالیٰ کی مطلق بادشاہت اور قیامت کے یقینی وقوع کو ثابت کرنے کے لیے ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ زندگی اور موت اعمال کی آزمائش کے لیے ہیں، شیاطین کے دھوکے سے خبردار کیا گیا ہے، اور مشرکین کو چیلنج دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی نقص تلاش کرکے دکھائیں، جو ان کی گمراہی اور آنے والے عذاب کے باطل ہونے کی دلیل ہو۔
نزول کا پس منظر:
دور: متفقہ طور پر مکی ہے۔
ترتیبِ نزول: نزول کی ترتیب میں اسے 76 ویں سورہ شمار کیا گیا ہے، جو سورۃ المؤمنون کے بعد اور الحاقہ سے پہلے نازل ہوئی۔
نام اور آیات کی تعداد:
نام: یہ سورہ کئی ناموں سے جانی جاتی ہے، بنیادی طور پر "سورۃ الملک" اور طویل شکل میں، اپنے آغاز کی وجہ سے "سورۃ تبارک الذی بیدہ الملک"۔ عذابِ قبر سے بچانے کی وجہ سے، جیسا کہ نبی کریم (ﷺ) سے روایت ہے، اسے "المانعہ"، "المنجیہ"، "الواقیہ"، اور "المجادلہ" کہا گیا ہے۔
فضیلت: نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا کہ یہ سورہ (30 آیات) اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی ہے یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے۔ آپ (ﷺ) سونے سے پہلے اس کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
آیات کی تعداد: 30 آیات (اکثریت کے مطابق) یا 31 (حجاز کے مطابق)۔
سورہ کا خلاصہ:
- اللہ تعالیٰ کی مطلق بادشاہت اور کامل تخلیق: اللہ تعالیٰ کی مطلق بادشاہت اور اس کی تخلیق کے بے عیب نظام کو بیان کرتے ہوئے لوگوں کو اس کی کامل ساخت میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ [1–4]
- زندگی اور موت کا مقصد: یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ انسانوں کو آزمایا جائے کہ ان میں کون بہتر عمل کرتا ہے۔ [2]
- جہنم سے تنبیہ: جہنم کے عذاب سے خبردار کیا گیا ہے اور حق کو جھٹلانے والوں کے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کا منظر بیان کیا گیا ہے۔ [6–11]
- اللہ تعالیٰ کا کامل علم: واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کو جانتا ہے، حتیٰ کہ جو کچھ دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے۔ [12–14]
- زمین کی نعمت اور اس کی ناپائیداری: زمین کے مستحکم ہونے کی نعمت یاد دلائی گئی ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو زمین کو لوگوں سمیت دھنسا دے یا ان پر پتھروں والی آندھی بھیج دے۔ [15–17]
- اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں: پرندوں کی پرواز کو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ان کی نگہداشت و پرورش کی نشانی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ [19]
- حقیقی محافظ اور رازق: مشرکین کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور رزق روک لے تو اس کے سوا کون انہیں تحفظ دے سکتا یا رزق فراہم کرسکتا ہے؟ [20–21]
- آنے والے عذاب سے تنبیہ: مشرکین کو آنے والے عذاب سے خبردار کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا تو وہ نادم ہوں گے۔ [25–27]
- نبی کریم ﷺ کا انجام اور منکرین کا انجام: نبی کریم ﷺ کی وفات کے حوالے سے منکرین کے تمسخر کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ اور اہلِ ایمان کو وفات دے دے یا ان پر رحم فرمائے، تب بھی منکرین کو دردناک عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ [28]
- آخری چیلنج: آخر میں چیلنج کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کا پانی زمین میں اتار دے تو کون ہے جو ان کے لیے بہتا ہوا پانی واپس لاسکے؟ [30]