آیات:
18
نزول وحی کی جگہ:
مدینہ
Adapted from Tafsir Ibn Ashur
یہ مدنی سورت اسلامی معاشرے کے لیے ایک جامع ضابطۂ اخلاق پیش کرتی ہے۔ اس کا مقصد معاشرتی اور اخلاقی نظام کو قائم اور پاکیزہ بنانا، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صحیح آداب سکھانا، خبروں کی تحقیق کا حکم دینا، مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو منظم کرنا، اور یہ واضح کرنا ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت و فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے، نہ کہ نسل یا قبیلہ۔
دور: متفقہ طور پر مدنی ہے۔ یہ 9 ہجری کے آس پاس نازل ہوئی، جو اسے بالکل آخری سورتوں میں سے ایک بناتی ہے۔
سیاق و سباق: یہ سورت مدینہ میں پیش آنے والے چند مخصوص سماجی واقعات کے موقع پر نازل ہوئی۔ خاص طور پر بنو تمیم کے اس گستاخانہ رویے کے جواب میں، جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حجروں کے باہر سے آپ کو پکارا، نیز اسلامی معاشرے کے باہمی تعلقات کو مضبوط اور منظم کرنے کے لیے۔
نام: اس سورہ کا قائم شدہ نام "سورۃ الحجرات" ہے۔ اس کا نام اللہ کے رسول (ﷺ) کو پکارنے کے مناسب آداب سکھانے کے سیاق و سباق میں "الحجرات" [4] کے منفرد ذکر پر رکھا گیا ہے۔
ترتیبِ نزول: یہ ترتیبِ نزول کے اعتبار سے قرآنِ کریم کی 108ویں سورت ہے، جو سورۃ المجادلہ کے بعد اور سورۃ التحریم سے پہلے نازل ہوئی۔ جہاں تک ترتیبِ تدوین یعنی مصحف کی موجودہ ترتیب کا تعلق ہے، اسے عموماً مفصّل سورتوں میں سے پہلی سورت شمار کیا جاتا ہے، جن کا سلسلہ یہاں سے شروع ہو کر قرآنِ کریم کے اختتام تک چلا جاتا ہے۔
آیات کی تعداد: متفقہ طور پر 18 آیات۔