اِنَّ
اللّٰهَ
لَا
یَسْتَحْیٖۤ
اَنْ
یَّضْرِبَ
مَثَلًا
مَّا
بَعُوْضَةً
فَمَا
فَوْقَهَا ؕ
فَاَمَّا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
فَیَعْلَمُوْنَ
اَنَّهُ
الْحَقُّ
مِنْ
رَّبِّهِمْ ۚ
وَاَمَّا
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
فَیَقُوْلُوْنَ
مَاذَاۤ
اَرَادَ
اللّٰهُ
بِهٰذَا
مَثَلًا ۘ
یُضِلُّ
بِهٖ
كَثِیْرًا ۙ
وَّیَهْدِیْ
بِهٖ
كَثِیْرًا ؕ
وَمَا
یُضِلُّ
بِهٖۤ
اِلَّا
الْفٰسِقِیْنَ
۟ۙ
یقینا اللہ اس سے نہیں شرما تاکہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے۔ تو جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ یقیناً حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔ اور جنہوں نے کفر کیا سو وہ کہتے ہیں کہ کیا مطلب تھا اللہ کا اس مثال سے ؟ گمراہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بہتوں کو اور ہدایت دیتا ہے اسی کے ذریعے سے بہتوں کو۔ اور نہیں گمراہ کرتا وہ اس کے ذریعے سے مگر صرف سرکش لوگوں کو۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ جل شانہ کی مثالیں اور دنیا ٭٭…
سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور چند صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جب اوپر کی تین آیتوں میں منافقوں کی دو مثالیں بیان ہوئیں یعنی آگ اور پانی کی تو وہ کہنے لگے کہ ایسی ایسی چھوٹی مثالیں اللہ تعالیٰ ہرگز بیان نہیں کرتا۔ اس پر یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر
اللہ جل شانہ کی مثالیں اور دنیا ٭٭…
سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور چند صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جب اوپر کی تین آیتوں میں منافقوں کی دو مث