وَاِذْ
قَالَ
اِبْرٰهٖمُ
رَبِّ
اجْعَلْ
هٰذَا
بَلَدًا
اٰمِنًا
وَّارْزُقْ
اَهْلَهٗ
مِنَ
الثَّمَرٰتِ
مَنْ
اٰمَنَ
مِنْهُمْ
بِاللّٰهِ
وَالْیَوْمِ
الْاٰخِرِ ؕ
قَالَ
وَمَنْ
كَفَرَ
فَاُمَتِّعُهٗ
قَلِیْلًا
ثُمَّ
اَضْطَرُّهٗۤ
اِلٰی
عَذَابِ
النَّارِ ؕ
وَبِئْسَ
الْمَصِیْرُ
۟
اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے دعا کی تھی : اے میرے پروردگار ! اس گھر کو امن کی جگہ بنا دے اور یہاں آباد ہونے والوں (یعنی بنی اسماعیل (ؑ) کو پھلوں کا رزق عطا کر جو کوئی ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور یوم آخر پر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور (تمہاری اولاد میں سے) جو کفر کرے گا تو اس کو بھی میں دنیا کی چند روزہ زندگی کا ساز و سامان تو دوں گا پھر اسے کشاں کشاں لے آؤں گا جہنم کے عذاب کی طرف اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭…
«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیا
شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭…
«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور ح