Back to Learning Plan
سورۃ الواقعہ: جب یقینی واقعہ پیش آئے گا
Day 1: جب واقعہ پیش آئے گا
مرکزی خیال: آخری واقعے کا یقین اور اس کا وزن
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
سورۃ الواقعہ کا آغاز یقین کے اعلان سے ہوتا ہے: جب وہ لازمی واقعہ پیش آئے گا تو اس کے واقع ہونے کو کوئی جھٹلا نہیں سکے گا۔
اللہ یہ نہیں فرماتا کہ اگر یہ واقعہ پیش آئے، بلکہ فرماتا ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آئے گا۔ قیامت کوئی امکان یا دور کا خیال نہیں، بلکہ ایسی حقیقت ہے جسے ہر انسان دیکھے گا۔ الواقعہ نام ہی اس واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو لازماً پیش آ کر رہے گا۔
پھر اللہ فرماتا ہے کہ وہ کسی کو پست کرے گا اور کسی کو بلند۔ اس دن وہ معیار باقی نہیں رہیں گے جن سے لوگ دنیا میں کامیابی ناپتے تھے۔ مال، مقام، شہرت اور طاقت انسان کو فائدہ نہیں دیں گے، مگر یہ کہ ان کے ساتھ ایمان اور نیک عمل ہوں۔ جو اللہ کے سامنے عاجز تھے، ان کے درجات بلند ہو سکتے ہیں، اور جو متکبر اور غافل تھے، وہ رسوا ہو سکتے ہیں۔ یہ حقیقی جواب دہی کا دن ہوگا، اور ہر جان اپنے کیے ہوئے سے ملے گی۔ اللہ ہمیں آسان اور جلد حساب والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
پھر سورت زمین کے شدید ہلائے جانے اور پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو کر بکھرے غبار بن جانے کا منظر بیان کرتی ہے۔ پہاڑ زمین کی مضبوط ترین چیزوں میں سے ہیں، مگر اللہ یاد دلاتا ہے کہ جب اس کا حکم آئے گا تو وہ بھی ٹوٹ جائیں گے۔ اگر پہاڑ باقی نہیں رہ سکتے تو ہم دنیا کی عارضی چیزوں پر کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں؟ قرآن کی دوسری آیات بھی بتاتی ہیں کہ جن پہاڑوں کو ہم مضبوط سمجھتے ہیں، وہ بادلوں کی طرح گزر جائیں گے۔
اس سورت کی ابتدائی آیات مومن کو گہرے غور کی دعوت دیتی ہیں۔ معمولات مانوس ہوں اور دن تیزی سے گزریں تو زندگی مستقل محسوس ہوتی ہے۔ مگر یہ آیات پردہ اٹھا کر یاد دلاتی ہیں کہ یہ دنیا آخرت کی بڑی حقیقت سے پہلے ایک عارضی مرحلہ ہے۔
قدیم مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیات غافل کے لیے تنبیہ اور مومن کے لیے یاد دہانی ہیں۔ یہ ہمیں اس دن سے پہلے اپنی ترجیحات کا جائزہ لینے پر ابھارتی ہیں جب اعمال تولے جائیں گے اور حقائق پوری طرح ظاہر ہو جائیں گے۔ ہر گزرتا دن ہمیں اللہ سے ملاقات کے قریب کر رہا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو وقت باقی رہتے اس ملاقات کی تیاری کرے۔
حاصلِ سبق:
آخری دن کا یقین مومن کو دنیا کی حقیقت دکھاتا ہے: یہ عارضی، گزر جانے والی، اور اللہ کی اطاعت سے اوپر رکھنے کے قابل نہیں۔ جب آخرت دل میں حقیقی ہو جاتی ہے تو ترجیحات بدلتی ہیں اور عمل زیادہ مقصدیت اختیار کرتے ہیں۔ یہ سورت زندگی کے دھوکے کو توڑتی اور دنیا میں غلط جگہ رکھی ہوئی سلامتی کے احساس کو دور کرتی ہے۔
حدیث
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی گرفت میں لے گا، آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟
(صحیح مسلم 2787)
عملی سرگرمی
آج اپنی کسی نماز میں سورۃ الواقعہ کی ابتدائی آیات آہستہ اور توجہ سے پڑھیں۔ جب آپ یہ الفاظ پڑھیں کہ جب لازمی واقعہ پیش آئے گا، تو تھوڑا رکیں اور قیامت کے یقین اور اللہ سے اپنی ملاقات پر غور کریں۔ پھر باقی دن اس انداز میں گزارنے کی نیت تازہ کریں جو اللہ کو پسند ہو۔
یہ عمل اس طرح مدد دے گا:
- آخرت کی یاد کو مضبوط کرتا ہے۔
- سچے محاسبہ نفس کی ترغیب دیتا ہے۔
- روزمرہ اعمال کو ابدی ترجیحات کے ساتھ جوڑتا ہے۔
دعا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ
Allāhumma innī as'aluka al-jannah wa aʿūdhu bika mina al-nār.
اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
(سنن ابی داؤد 792)
یہ دعا آخری دن کو یاد رکھنے اور اس کے بعد آنے والی حقیقت کی تیاری سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
تدبر کا سوال
اگر آپ جانتے کہ کل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے آپ کا آخری دن ہے، تو آج کون سی عادت چھوڑتے یا کون سی اطاعت شروع کرتے؟