Back to Learning Plan
سورۃ المسد: تکبر کے خلاف تنبیہ
Day 3: تکبر کی آگ
مرکزی خیال: جو دل بار بار حق کو رد کرتا ہے، وہ سب سے پہلے خود کو نقصان پہنچاتا ہے
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
ابو لہب کے مال اور مقام پر جھوٹے اعتماد کو بیان کرنے کے بعد سورۃ المسد اس کا آخری انجام ظاہر کرتی ہے: ”عنقریب وہ جھونکا جائے گا بھڑکتی ہوئی آگ میں۔“
یہ آیت ابو لہب کی سزا بیان کرتی ہے۔ جب ہم اسے باقی سورت اور دیگر قرآنی آیات کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں تو اس دل کی حالت یاد آتی ہے جس نے اسے اس انجام تک پہنچایا۔ ابو لہب اس لیے ہلاک نہیں ہوا کہ اسے حق تک رسائی نہ تھی۔ وہ نبی کریم ﷺ کے قریب رہتا تھا۔ اس نے پیغام سنا، رسول اللہ ﷺ کا کردار دیکھا، اور جانتا تھا کہ محمد ﷺ کون ہیں۔ پھر بھی اس نے بار بار انکار کو چنا۔
یہی چیز تکبر کو خطرناک بناتی ہے۔ تکبر صرف اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کا نام نہیں۔ اس کی اصل یہ ہے کہ جب حق آپ تک پہنچے تو آپ اسے رد کر دیں۔ علماء بیان کرتے ہیں کہ تکبر آہستہ آہستہ دل کو بدل دیتا ہے۔ انسان اپنی اصلاح سے زیادہ اپنی تصویر بچانے میں لگ جاتا ہے؛ ہدایت پانے سے زیادہ درست ثابت ہونے میں دلچسپی لیتا ہے؛ اللہ کے سامنے جھکنے سے زیادہ اپنی انا کے دفاع کو ترجیح دیتا ہے۔ وقت کے ساتھ دل اس چیز کے خلاف مزاحمت کرنے لگتا ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔
اسی لیے قرآن بار بار تکبر کو اندھے پن سے جوڑتا ہے۔ مسئلہ ہمیشہ دلیل کی کمی نہیں ہوتا؛ کبھی مسئلہ ایسا دل ہوتا ہے جو جھکنا نہیں چاہتا۔
سورۃ المسد کا ایک لطیف سبق یہ ہے کہ سزا صرف آخرت میں شروع نہیں ہوتی۔ تکبر میں ڈوبا ہوا دل پہلے ہی ایک طرح کی بے چینی اٹھائے پھرتا ہے۔ وہ اصلاح قبول کرنے، معذرت کرنے، غلطی ماننے اور بڑھنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ انسان اپنے ہی اندر قید ہو جاتا ہے۔
نیک لوگوں نے اس خطرے کو خوب سمجھا۔ وہ جتنا علم حاصل کرتے، اتنے ہی عاجز ہوتے جاتے۔ وہ اللہ کی عظمت کو جتنا پہچانتے، اپنی محتاجی کا شعور اتنا ہی بڑھتا۔ حقیقی ہدایت انسان کو نرم کرتی ہے، تکبر اسے سخت کر دیتا ہے۔
اسی لیے مومن عبادت کرتے ہوئے بھی اللہ سے دعا کرتا رہتا ہے کہ وہ اس کے دل کو تکبر سے محفوظ رکھے۔ کیونکہ انسان بہت کچھ جان سکتا ہے، پھر بھی حق کے سامنے عاجز ہونے سے انکار کر سکتا ہے۔
ابو لہب کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سب سے بڑا خطرہ لاعلمی نہیں، بلکہ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد ضدی مزاحمت ہے۔
حاصلِ کلام: جو لوگ اللہ کے حق کو جان بوجھ کر مرتے دم تک رد کرتے رہتے ہیں، ان کے لیے آگ وہ سزا ہے جو اللہ نے تیار کی ہے۔ مومن جب بھی ہدایت اس تک پہنچے، عاجزی اختیار کر کے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔
حدیث
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
ایک شخص نے عرض کیا: ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اور اس کے جوتے اچھے ہوں۔“
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر حق کو رد کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔“
(صحیح مسلم: 91)
یہاں تکبر اور اچھے انداز میں رہنے کے درمیان واضح فرق سامنے آتا ہے۔ اسلام کو بہترین انداز میں پیش کیا جانا چاہیے، مگر تکبر ہر چیز پر اپنی ذات کو ترجیح دیتا ہے۔
عملی سرگرمی
آج پانچ منٹ اس بات پر غور کریں کہ اللہ نے آپ کے ارد گرد ہدایت کی کون کون سی نعمتیں رکھی ہیں۔
خود سے پوچھیں:
اللہ کی کون سی یاد دہانیاں مجھے باقاعدگی سے ملتی ہیں مگر میں انہیں معمولی سمجھ لیتا ہوں؟
کون سی آیت، نصیحت یا سبق میں نے کئی بار سنا ہے مگر ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا؟
اگر میں واقعی مانتا ہوں کہ یہ ہدایت اللہ کی طرف سے ہے تو آج میری زندگی میں کیا بدلنا چاہیے؟
ہدایت کی ایک ایسی بات منتخب کریں جسے آپ پہلے سے جانتے ہیں، اور دن ختم ہونے سے پہلے اس پر عمل کا ایک عملی قدم اٹھائیں۔
سب سے بڑا خطرہ حق کو نہ سننا نہیں، بلکہ اس سے اتنا مانوس ہو جانا ہے کہ ہم اسے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے نہ دیں۔
یہ عمل کیوں مفید ہے؟
تکبر کی باریک صورتیں ظاہر کرتا ہے۔
اخلاص بڑھاتا ہے۔
دل کو ہدایت کے لیے نرم کرتا ہے۔
اللہ کے سامنے عاجزی کو مضبوط کرتا ہے۔
دعا
اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ
Allāhumma ṭahhir qalbī minan-nifāq wa ʿamalī minar-riyā'.
اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو دکھاوے سے پاک فرما۔
(مشکاۃ المصابیح: 2501)
تدبر کا سوال
جب حق آپ کے آرام، شہرت یا خواہشات کو چیلنج کرتا ہے تو آپ کا پہلا ردعمل کیا ہوتا ہے: جھک جانا، مزاحمت کرنا، یا اپنے آپ کو درست ثابت کرنا؟