Back to Learning Plan
سورۃ العصر: وقت کا بارِ گراں
Day 3: استثنا
مرکزی خیال: نجات کی پہلی بنیاد ایمان ہے
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
انسان کے خسارے کا اعلان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ امید کا دروازہ کھولتا ہے: "سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔"
یہ استثنا پورا منظر بدل دیتا ہے۔ ابھی پوری انسانیت خسارے کے حکم کے نیچے تھی، اب اللہ ان لوگوں کی صفات بیان کر رہا ہے جو اس خسارے سے نکل جاتے ہیں۔ سب سے پہلی صفت ایمان ہے۔ یہ ترتیب اتفاقی نہیں۔
ایمان ہر نیکی کی بنیاد ہے۔ ایمان کے بغیر عمل اپنی آخری منزل کھو دیتا ہے، حق صرف معلومات بن کر رہ جاتا ہے، اور صبر محض برداشت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ایمان ان سب کو معنی دیتا ہے۔
ایمان صرف یہ مان لینے کا نام نہیں کہ اللہ موجود ہے۔ یہ اللہ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت اور تقدیر پر یقین ہے؛ اور اس سے بھی بڑھ کر وہ یقین ہے جو دل میں اتر کر زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔
ایمان انسان کے وقت کو دیکھنے کا زاویہ بدل دیتا ہے۔ مومن زندگی کو بے ربط واقعات کا سلسلہ نہیں سمجھتا۔ ہر لمحہ اللہ کی طرف سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔ کامیابی اور ناکامی، خوشی اور تکلیف، آسانی اور تنگی، سب کے معنی بدل جاتے ہیں۔
اسی لیے اللہ عمل سے پہلے ایمان کا ذکر کرتا ہے۔ دل کو پہلے مضبوط سہارا چاہیے، پھر اعضاء صحیح سمت میں چلتے ہیں۔ جڑ کے بغیر درخت پھل نہیں دے سکتا؛ اسی طرح ایمان کے بغیر نیک اعمال اپنی اصل روح نہیں پاتے۔
ایمان انسان کو مایوسی سے بھی بچاتا ہے۔ اگر وقت مسلسل گزر رہا ہے اور انسان خسارے میں ہے، تو ایمان یاد دلاتا ہے کہ اللہ ہر سچی کوشش کو دیکھتا ہے، اور جو وقت ضائع ہو گیا اس کے بعد بھی توبہ، رجوع اور نئی اطاعت کا دروازہ کھلا ہے۔
لہٰذا سورۃ العصر کا راستہ عمل سے پہلے دل کی اصلاح سے شروع ہوتا ہے۔ پہلے انسان جان لے کہ وہ کس پر یقین رکھتا ہے، کس کے سامنے جواب دہ ہے، اور کس منزل کی طرف جا رہا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایمان وہ بنیاد ہے جو وقت، عمل، حق اور صبر سب کو اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی سے جوڑ دیتی ہے۔
حدیث
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل لا إله إلا الله کہنا ہے، اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔"
(صحیح مسلم 35)
عملی سرگرمی
آج پانچ منٹ تنہائی میں بیٹھ کر اپنے ایمان کے بارے میں سوچیں۔
اپنے آپ سے پوچھیں:
- کیا میرا ایمان میرے فیصلوں کو بدلتا ہے؟
- کیا میں اللہ سے ملاقات کو اپنی روزمرہ ترجیحات میں یاد رکھتا ہوں؟
- ایمان کو تازہ کرنے کے لیے آج کون سا چھوٹا عمل کر سکتا ہوں؟
یہ عمل اس طرح مدد دے گا:
- دل کو اصل بنیاد کی طرف واپس لاتا ہے۔
- عمل کو نیت اور یقین سے جوڑتا ہے۔
- مایوسی کے بجائے رجوع اور امید پیدا کرتا ہے۔
دعا
يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ
Yā Muqallibal-qulūb, thabbit qalbī ʿalā dīnik.
اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔
(جامع الترمذی 2140)
تدبر کا سوال
اگر کوئی آپ کے الفاظ نہ سنے، صرف آپ کے اعمال دیکھے، تو اسے آپ کے دل میں ایمان کی کیا نشانیاں نظر آئیں گی؟