Back to Learning Plan
شعور کے ساتھ روزے رکھنا
Day 5: دل میں تقویٰ
تقویٰ کا مرکزی مقام ہمارا دل ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"یہ سب کچھ (تم نے سن لیا) اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے گا تو یقیناً یہ دلوں کے تقویٰ کی بات ہے۔" (سورۃ الحج 22:32)
جب تقویٰ کا اصل ذخیرہ دل ہے تو پھر ضروری ہے کہ انسان اپنے دل کو مسلسل ایسی بیماریوں سے پاک کرتا رہے جیسے تکبر، حسد، بغض اور دیگر روحانی آلودگیاں، تاکہ تقویٰ تمام دوسرے اثرات پر غالب آ سکے۔
“تقویٰ کوئی ایسی چیز نہیں جو صرف ہمارے لباس یا ظاہری حالت میں نظر آئے۔”
شاید اسی لیے نبی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا ، وَزَكِّها أنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا ، أنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلاَهَ
"اے اللہ ! میرے دل کو تقویٰ دے ، اس کو پاکیزہ کر دے ، تو ہی اس ( دل ) کو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، تو ہی اس کا رکھوالا اور اس کا مددگار ہے ۔" (مسلم)
ایک ایسے دور میں جہاں دکھاوا اور نمود و نمائش کو فروغ دیا جاتا ہے، جہاں مہنگے اور برانڈیڈ لباس سماجی حیثیت کی علامت بن جاتے ہیں، اور جہاں دوسروں سے لائکس اور توثیق حاصل کرنا عام بات ہے، وہاں یہ بہت آسان ہو جاتا ہے کہ ہم تقویٰ کو اپنے ظاہری حلیے اور ظاہر کردہ رویّوں میں دکھانے کی کوشش کریں، جبکہ حقیقت میں وہ دل سے نہ ہو۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو دیکھتا ہے نہ تمہاری صورتوں کو لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے ۔‘‘ (مسلم)
حقیقی تقویٰ چھوٹی چھوٹی باتوں میں ظاہر ہوتا ہے، جیسے تجارت میں دیانت داری، نئی ملنے والی ہدایت پر عمل کرنا بغیر اس خواہش کے کہ کوئی اس کی تعریف کرے، اور اس طرح کے رویّے میں جو انسان اکیلے میں اختیار کرتا ہے۔ لوگوں کے سامنے نیک بننا یا تقویٰ کا لبادہ اوڑھنا آسان ہے، جبکہ اندر سے دل حقیقی تقویٰ اور اخلاص سے خالی ہو۔
خلاصہ یہ کہ تقویٰ اندر سے ہے، اور کسی کے دل میں موجود تقویٰ کا فیصلہ صرف اس کے ظاہری حلیے سے نہیں کیا جا سکتا۔
"وہ تمہیں خوب جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے اٹھایا اور جب کہ تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں جنین کی شکل میں تھے۔ تو تم خود کو بہت پاکباز نہ ٹھہرائو۔ وہ اسے خوب جانتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتا ہے۔" (سورۃ النجم 53:32)
آئیے اس رمضان کو حقیقی اندرونی تبدیلی کا مہینہ بنائیں۔ اپنی روح پر توجہ دیں اور خود سے سوال کریں: “میرے دل کی اصلاح کے ممکنہ طریقے کیا ہو سکتے ہیں؟ مثال کے طور پر، کیا میں غصے یا پریشانی کے وقت اپنے اظہار میں بہتر انتخاب کر سکتا ہوں؟ کیا میں دوسروں کی کامیابیوں میں اس قدر الجھ جاتا ہوں کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا؟ کیا میں اپنی ظاہری شکل کے بارے میں حد سے زیادہ فکرمند ہوں، یہ بھول کر کہ اللہ نے ہم میں سے ہر ایک کو منفرد اور اپنی جگہ خوبصورت بنایا ہے؟” ہم میں سے ہر ایک کے دل میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جنہیں نکالنے کی ضرورت ہے، اور بہت سی ایسی خوبیاں ہیں جن سے دل کو آراستہ کیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے اور ہمارے دلوں کو تقویٰ سے بھر دے، تاکہ ہم اس کے فرمانبردار بندے بنے رہیں۔ آمین
اس عنوان پر مزید مطالعہ کے لیے قرآن ریفلیکٹ پر یہ تدبرات پڑھیں۔
https://quranreflect.com/posts/1770395861094821
https://quranreflect.com/posts/1770387136676346
اصلاحی رہنمائی:
اللہ اور آپ کے درمیان کچھ خفیہ نیک اعمال رکھیں۔ یہ صدقہ، نفل نماز، یا روزہ ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں کوئی نہ جانے۔ یا رات کو جب آنکھ کھلے تو صرف چند منٹ استغفار کر لیا کریں۔
اگلا سبق 'گفتگو کے آداب' کے بارے میں ہے۔